ترکی کی خارجہ پالیسی کے جارحانہ ہونے کی وجوہات

57

خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی کیا وجہ ہے؟

اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہارڈ پاور (یعنی سخت فوجی کارروائی) پر ترکی کا یقین اس کی 2015 کے بعد کی خارجہ پالیسی کا خاصہ رہا ہے۔

نئی خارجہ پالیسی کے تحت وہ کثیرالجہتی مسئلے کو شک و شبے کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر پرکی کو یکطرفہ کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔

ترکی کی نئی خارجہ پالیسی مغرب مخالف ہے۔ ترکی کا خیال ہے کہ دنیا میں مغربی ممالک کا اثر و رسوخ اب کم ہو رہا ہے اور ترکی کو چین اور روس جیسے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں اضافہ کرنا چاہیے۔

ترکی کی موجودہ خارجہ پالیسی سامراجیت مخالف ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد تیار ہونے والے مغربی غلبے والے نیو ورلڈ آرڈر کو وہ چیلنج کرتا ہے اور اقوام متحدہ جیسی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مغربی ممالک کے علاوہ دوسرے ممالک کی بھی آواز سنے۔

ترکی کا خیال ہے کہ اس کے چاروں جانب آباد ممالک اس کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں اور اس کے مغربی اتحادیوں نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

لہٰذا ترکی نے ایک ایسی خارجہ پالیسی کا راستہ اختیار کیا ہے جو اپنی حدود سے باہر ایک فعال فوجی قوت کی حیثیت سے دنیا میں اپنی موجودگی کو مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔

یہ دوسرے ممالک کے ساتھ اس کی پرانی تجارتی اور ثقافتی میل جول والی پالیسی کے برعکس ہے۔

ترکی کی موجودہ خارجہ پالیسی کے لیے بہت ساری اندرونی اور بین الاقوامی تبدیلیاں ذمہ دار ہیں۔

تبدیلی کیسے شروع ہوئی؟

ترکی کی نئی خارجہ پالیسی نے سنہ 2015 سے نئی شکل اختیارکرنا شروع کیا ہے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے میں پہلی بار حکمراں اے کے پارٹی کو کرد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کی وجہ سے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کھونی پڑی۔

اکثریت حاصل کرنے کے لیے صدر اردوغان نے دائیں بازو اور بائیں بازو دونوں کے قوم پرست رہنماؤں کے ساتھ ہاتھ ملایا۔

ان پارٹیوں نے اردوغان کا اس وقت ساتھ دیا جب انھوں نے کرد باغیوں کے خلاف دوبارہ کارروائی شروع کی۔

کُردوں پر اتنی توجہ کیسے دی؟

سنہ 2013 میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے رہنما عبداللہ اوکلان نے ترکی کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ترکی کے ساتھ پی کے کے کا تنازع کافی حد تک ختم ہوگیا تھا۔

نظریاتی اختلافات کے باوجود انتہائی دائیں بازو کی جماعت اور نو قوم پرست بائیں بازو کی جماعت اس بات پر متفق ہیں کہ کرد مسئلے سے سختی کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔

یہ پارٹیاں ملکی محاذ پر قومی سلامتی کو ترجیح دینے کے حق میں ہیں اور خارجہ پالیسی کے بارے میں مغربی مخالف مؤقف رکھتی ہیں۔

ان کی حمایت سے اردوغان نے ملک کے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بھی تبدیل کردیا ہے۔ اس سے ان کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔

ترکی کے یکطرفہ، فوجی، اور حوصلہ مندانہ خارجہ پالیسی میں اس سیاسی اتحاد کا بڑا کردار ہے۔ اور سنہ 2016 میں ہونے والی ناکام بغاوت نے بھی اس میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

تختہ الٹنے کی کوشش سے آنے والی تبدیلی

ترکی کے صدر اردوغان نے الزام لگایا تھا کہ سنہ 2016 میں ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش مذہبی مبلغ فتح اللہ گولین کی سربراہی میں ہوئی تھی جبکہ گولین اب تک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

فتح اللہ گولین کے ترکی میں لاکھوں پیروکار ہیں۔ ان کے 150 سے زیادہ ممالک میں سکول ہیں اور ان کا کاروبار اربوں ڈالر میں ہے۔ وہ سنہ 1990 کی دہائی سے امریکہ کے شہر پینسلوینیا میں مقیم ہیں۔

ترکی کی خارجہ پالیسی میں فوجی کردار کی آمد کی ایک بڑی وجہ بغاوت کی کوشش بھی رہی ہے۔ اس سے قوم پرستوں کے ساتھ اردوغان کا اتحاد مزید مضبوط ہوا ہے۔

تحتہ الٹنے سازش میں ملوث ہونے کے شبہ میں تقریبا ساٹھ ہزار سرکاری ملازمین کو یا تو مارا گیا، یا جیل بھیج دیا گیا یا برخاست کردیا گیا۔ اس میں فوج کے جوان اور عدلیہ کے لوگ بھی شامل تھے۔

ان کی جگہ پر اردوغان کے وفاداروں اور قوم پرستوں کو شامل کیا گیا ہے۔

اس میں قوم پرستوں کے اس تصور پر بھی زور دیا گیا کہ ترکی گھریلو اور غیر ملکی محاذ پر دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔

شام میں ترکی کی پالیسی کیسے بدلی؟

شام کے صدر بشار الاسد کی جانب سے شمالی حصے میں کردوں کو کرد زون کے لیے کو کھلی چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ خطہ ترکی کی سرحد سے متصل ہے۔

سنہ 2014 میں امریکہ نے مبینہ طور پر کردوں کی مدد کے لیے اسلحہ فراہم کیا تھا۔ ان سب کے سبب ترکی کے عدم اطمینان میں اضافہ ہوا کیونکہ ترکی کردوں کو انتہا پسند سمجھتا ہے۔

اس سے ترکی کو یہ احساس ہوا کہ اسے تنہا ہی اپنی سرحد کی حفاظت کرنی ہوگی اور اس لیے اس نے سرحد پر فوج کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا۔

تختہ الٹنے کی کوشش سے قبل اردوغان نے شام میں فوجی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔ انھوں نے ‘انتہا پسندی کے خطرے’ کو ختم کرنے کی بات کی۔

لیکن ترک فوج اس کے حق میں نہیں تھی۔ ترک فوج کسی دوسرے ملک میں کارروائی کرنے کے معاملے میں محتاط رہتی ہے۔

لیکن تختہ الٹنے کی کوشش کے چند ماہ بعد اردوغان کی یہ خواہش پوری ہوگئی اور ترکی نے شام میں کردوں کے خلاف پہلی فوجی کارروائی کی۔ اس کے بعد ترکی کی فوج نے شام میں مزید دو بار کارروائی کی ہے۔

اردوغان کے قوم پرست اتحادیوں نے ان کے فیصلے کی خوب تعریف کی۔ قوم پرستوں کو خوف تھا کہ امریکہ کی مدد سے کرد ترکی کی سرحد پر ایک آزاد ریاست تشکیل دے سکتے ہیں۔

امریکہ کے متعلق اس خوف کی وجہ سے وہ روس کی حمایت کرتے ہیں۔

لیبیا اور مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کیوں ہے؟

جنوری میں ترکی نے لیبیا کی موجودہ حکومت کو فوجی مدد بھیجی تھی۔ لیبیا میں وزیر اعظم فیض السراج کی حکومت کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔

لیبیا میں ترکی کا بنیادی مقصد سراج کی حکومت کو بچانا ہے۔ مشرقی بحیرہ روم کا خطے اردوغان کی حکومت میں شامل قوم پرستوں کے لیے بہت اہم ہے۔

قبرص میں گیس نکالنے کے حق پر ترکی مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں یونان اور قبرص کے ساتھ تصادم کی حالت میں ہے۔

ترکی نے نومبر میں سراج حکومت کے ساتھ فوجی امداد کے بدلے سمندری سرحدوں کے متعلق ایک معاہدہ کیا ہے۔ اردوغان کا مقصد مشرقی بحیرہ روم میں سمندری حدود کا از سر نو تعین کرنا ہے کیونکہ ترکی کو لگتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ترکی کے دشمن یونان اور قبرص اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اردوغان کی خارجہ پالیسی کتنی کامیاب ہے؟

شام، لیبیا اور مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی پالیسی بہرحال اتنی کامیاب نظر نہیں آتی جتنی اس کی حکومت میں اتحادیوں نے کی توقع کی تھی۔

ترکی اپنی سرحد کے پاس شام میں کردوں کو مکمل طور پر ہٹانے میں کامیاب نہیں رہا ہے۔ مشرقی بحیرہ روم میں لیبیا کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے بھی اس کی حیثیت میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ہے۔

اس کے برعکس یہ ہوا کہ ان تنازعات میں ترکی کی مداخلت کی وجہ سے ان ممالک میں اور مغربی ممالک میں اردوغان مخالف جذبات کو ہوا ملی ہے۔

ناگورنو-قرہباخ میں بھی ترکی کا یہی حشر نظر آ رہا ہے کیونکہ ترکی کی طرف سے آذربائیجان کی حمایت پر روس کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

ترکی کے لیے آگے کیا ہے؟

صدر اردوغان کے قوم پرست اتحادی چاہتے ہیں کہ وہ جنگ جاری رکھیں۔ ایک نیو قوم پرست ریٹائرڈ ایڈمرل سیحات یاسی کا کہنا ہے کہ یونان مغربی ترکی پر تحاوزات قائم کرنا چاہتا تھا۔

انھوں نے اردوغان سے اپیل کی ہے کہ وہ یونان کے ساتھ بات چیت نہ کریں۔

صدر اردوغان کے پاس اس طرح کے مشوروں کو سننے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ وہ رائے عامہ کے جائزوں میں اپنا دبدبہ کھوتے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملکی اور خارجہ پالیسی میں قوم پرستوں کے اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔