امریکی صدارتی انتخاب 2020: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو کس طرح تبدیل کیا ہے؟

61

امریکہ کا صدر صرف اپنے ملک کا رہنما نہیں بلکہ شاید دنیا کا سب سے طاقتور شخص تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا فعل ہم سبھی کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اس میں رعایت نہیں ملی۔ تو آخر وہ دنیا میں کیا کیا تبدیلی لائے ہیں؟

صدر ٹرمپ بار بار امریکہ کو ’دنیا کا سب سے عظیم ملک‘ قرار دیتے ہیں۔ لیکن پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے گئے 13 ملکی سروے کے مطابق وہ دنیا میں امریکہ کے تشخص کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر پائے ہیں۔

بہت سے یورپی ممالک میں امریکہ کے بارے میں مثبت نظریہ رکھنے والے لوگوں کی تعداد تقریباً 20 برسوں میں سب سے کم ہو گئی ہے۔ برطانیہ میں 41 فیصد لوگ ان کے لیے اچھی رائے رکھتے ہیں جبکہ فرانس میں یہ نمبر 31 فیصد ہے، جو سنہ 2003 کے بعد سب سے کم ہے۔ اور جرمنی میں یہ تعداد صرف 26 فیصد ہے۔

جولائی اور اگست کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کی عالمی وبا ایک اہم موضوع رہی جس میں صرف 15 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ امریکہ نے وبا کی روک تھام اور عدم پھیلاؤ کے لیے درست اقدامات لیے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کے معاہدے سے ٹرمپ پیچھے ہٹے

صدر ٹرمپ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں کیا یقین رکھتے ہیں، اسے معلوم کرنا مشکل ہے کیونکہ انھوں نے اسے ’ایک مہنگا دھوکہ‘ سے لے کر ’سنجیدہ موضوع جو میرے لیے بہت اہم ہے‘ تک سب کچھ کہا ہے۔

ایک بات واضح ہے کہ اپنے عہد کے چھ ماہ بعد انھوں نے پیرس میں ہونے والے ماحولیاتی تبدیلی کے معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر کے سائنسدانوں کو مایوس کیا تھا۔

اس معاہدے کے مطابق لگ بھگ 200 ممالک نے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ دو ڈگری سینٹی گریڈ کے اندر رکھنے کا عہد لیا تھا۔

سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج والے ممالک میں چین کے بعد امریکہ کا نمبر آتا ہے اور محققین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ کو دوبارہ منتخب کیا گیا تو عالمی سطح پر بڑھتی گرمائش کو روکنا ناممکن ہو سکتا ہے۔

پیرس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے صدر نے دعویٰ کیا تھا یہ اس سے ’امریکی صنعتوں پر ضرورت سے زیادہ پابندیاں لگ سکتی تھیں۔‘

ٹرمپ نے کوئلے، تیل اور گیس کے استعمال سے توانائی حاصل کرنے پر پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔

تاہم امریکہ میں متعدد کوئلے کی کانیں اس کے باوجود بند ہوئی ہیں۔ کیونکہ انھیں توانائی کے رینیو ایبل (قابلِ تجدید) اور قدرتی گیس جیسے سستے متبادل کا مقابلہ درپیش ہے۔

سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی بدولت امریکہ میں سنہ 2019 میں 130 برسوں میں پہلی بار کوئلے سے کہیں زیادہ توانائی پیدا ہوئی۔

امریکہ چار نومبر کو باقاعدہ طور پر پیرس معاہدے سے نکل جائے گا۔ یہ صدارتی انتخاب سے اگلا دن ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صدارتی انتخاب جیتے تو وہ امریکہ کو اس معاہدے میں دوبارہ شامل کروا دیں گے۔

یہ خدشہ کہ امریکہ کے نکلنے سے دیگر ممالک اس معاہدے سے باہر ہو جائیں گے تاحال غلط ثابت ہوا ہے۔ اگرچہ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے برازیل اور سعودی عرب کے لیے کاربن کے اخراج کو کم کرنے پر پیشرفت روکنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سرحدیں بند کیں

ٹرمپ نے اپنی صدارت کے ایک ہفتے کے اندر اندر ہی امریکہ میں تارکین وطن کی آمد پر روک لگانا شروع کر دی تھی اور سات مسلم اکثریتی ممالک کے مسافروں کے لیے امریکی سرحدیں بند کر دی تھیں۔

فی الحال 13 ممالک پر امریکہ میں سفر کرنے پر سخت پابندیاں ہیں۔

سنہ 2016 کے مقابلے 2019 میں امریکہ میں تین فیصد زیادہ غیر ملکی افراد آباد تھے۔ یہ اوبامہ کا بطور صدر آخری سال تھا۔ لیکن اب تارکین وطن کن ممالک سے امریکہ داخل ہوتے ہیں، یہ تبدیل ہو گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے دور حکومت میں میکسیکو میں پیدا ہونے والے امریکی باشندوں کے تناسب میں مسلسل کمی آئی ہے جبکہ لاطینی امریکہ اور کیریبین کے دوسرے مقامات سے آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

عام طور پر ویزا لوگوں کو امریکہ میں مستقل طور پر آباد ہونے میں مدد کرتا ہے لیکن اب اس کے جاری ہونے میں سختی بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر ایسے لوگوں کے رشتہ داروں کے لیے جو پہلے سے ہی امریکہ میں رہتے ہیں۔

اگر صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی کوئی نشانی موجود ہے تو وہ یقیناً ان کی ’بڑی، خوبصورت دیوار‘ ہے جسے انھوں نے میکسیکو کی سرحد پر تعمیر کرنے کی قسم کھائی تھی۔

امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے مطابق 19 اکتوبر تک صرف 371 میل کی دیوار تعمیر ہوئی ہے اور اس میں بھی تقریباً تمام حصہ وہ ہے جہاں پہلے سے دیوار موجود تھی۔

یہ اقدام امریکہ پہنچنے کے لیے بے قرار افراد کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر حراست میں آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں 12 برسوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ بہار میں منتقلی عروج پر ہونا تھا۔

ان میں سے آدھے سے زیادہ تعداد خاندانوں کی تھی جو زیادہ تر گوئٹے مالا، ہونڈوراس اور سلواڈور سے آ رہے تھے جہاں پر تشدد اور غربت لوگوں کو دوسری جگہ پناہ لینے پر مجبور کر رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں آباد ہونے والے مہاجرین کی تعداد میں شدید کٹوتی کی ہے۔ ملک نے مالی سال 2016 میں تقریباً 85,000 پناہ گزینوں کو جگہ دی تھی جس کی تعداد اگلے سال صرف 54,000 رہ گئی۔

ان کی تعداد 2021 میں زیادہ سے زیادہ 15 ہزار ہو گی جو کہ 1980 کے بعد جب مہاجرین کے لیے یہ پروگرام شروع کیا گیا تھا سب سے کم ہے۔

‘فیک نیوز’ کی بڑھتی تعداد

ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر 2017 کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ’فیک‘ میری ایجاد کردہ عظیم اصطلاحات میں سے ایک ہے۔‘

اگرچہ صدر نے یقینی طور پر ’فیک نیوز‘ کی اصطلاح ایجاد نہیں کی لیکن یہ کہنا مناسب ہے کہ انھوں نے اسے عام کیا ہے۔

’فیکٹ بی اے ڈاٹ ایس ای‘ نامی ایک ویب سائٹ پر سوشل میڈیا پوسٹ اور آڈیو ٹرانسکرپٹس کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے یہ الفاظ دسمبر 2016 میں پہلی بار ٹویٹ کیا گیا اور اس کے بعد سے انھوں نے اسے تقریباً دو ہزار مرتبہ استعمال کیا ہے۔

’فیک نیوز‘ گوگل پر تلاش کرنے پر 1.1 ارب سے زیادہ نتائج ملتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں کس طرح 2016-17 کے موسم سرما میں امریکہ میں دلچسپی بڑھی اور یہ اس ہفتے عروج پر پہنچا جب صدر نے ’فیک نیوز ایوارڈز‘ پر تحاریر کی ایک فہرست نکالی جنھیں وہ جھوٹ مانتے ہیں۔

سنہ 2016 کی صدارتی دوڑ کے دوران ’فیک نیوز‘ سے مراد تھا جھوٹ پر مبنی رپورٹس، جیسے جب یہ غلط اطلاع سامنے آئی تھی کہ پوپ فرانسس نے صدر ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

یہ اصطلاح عام لوگوں کے استعمال میں بھی آچکی ہے اور اب اس سے مراد محض غلط معلومات نہیں۔ صدر ٹرمپ اکثر ان خبروں کو ’فیک نیوز‘ کہتے ہیں جن سے وہ متفق نہیں ہوتے۔ فروری 2017 میں بات اس سے آگے بڑھ گئی جب انھوں نے ذرائع ابلاغ کے کچھ اداروں کو ’امریکیوں کا دشمن‘ قرار دے دیا۔

تھائی لینڈ، فلپائن، سعودی عرب اور بحرین جیسے ملکوں کے رہنماؤں نے مخالف کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف جبر اور قانونی کارروائی کے جواز کے لیے ’فیک نیوز‘ پھیلانے کے الزامات کا استعمال کیا ہے۔

سول سوسائٹی کے گروہوں کا کہنا ہے کہ معتبر رپورٹنگ کے خلاف یہ لفظ استعمال کر کے سیاستدان بنیادی طور پر جمہوریت کو نقصان پہنچاتے ہیں کیوںکہ جمہوریت اس بات پر منحصر ہے کہ عوام بنیادی حقائق کا علم رکھتے ہوں۔

امریکہ کی ’لا محدود جنگیں‘ اور مشرق وسطیٰ کا معاہدہ

فروری 2019 کے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے شام سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’عظیم ملک ختم نہ ہونے والی جنگیں نہیں لڑتے۔‘

اعداد و شمار بھی ایک پیچیدہ کہانی سناتے ہیں۔ اس کے کچھ ہی مہینوں بعد ٹرمپ نے شام میں تقریباً 500 فوجیوں کو تیل کے کنوؤں کے تحفظ کے لیے رکھنے کا فیصلہ کیا۔

صدر نے افغانستان، عراق اور شام میں ایک حد تک فوج کی موجودگی، جو انھیں پچھلی حکومت سے وراثت میں ملی تھی، کو کم کیا ہے۔ لیکن امریکی افواج اب بھی ہر اس جگہ پر موجود ہیں جہاں ان کے صدر بننے کے وقت تھیں۔

مشرق سطیٰ میں فوج کے بغیر اثر انداز ہونے کے بہت سارے طریقے ہیں۔

گذشتہ صدور کے اعتراضات کے باوجود صدر ٹرمپ نے 2018 میں امریکی سفارتخانہ اسرائیلی شہر تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا اور مقبوضہ مشرقی حصے سمیت اس شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا۔

گذشتہ ماہ جب متحدہ عرب امارات اور بحرین نے امریکی مدد سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدوں پر دستخط کیے تو انھوں نے اسے ’نئے مشرق وسطیٰ کی بنیاد‘ کہا۔

بیان بازی کو ایک طرف رکھیں تو یہ شاید ٹرمپ انتظامیہ کی سب سے اہم سفارتی کامیابی تھی۔ دونوں خلیجی ریاستیں مشرق وسطیٰ میں صرف تیسرے اور چوتھے عرب ملک ہیں جنھوں نے 1948 میں اسرائیل کی آزادی کے بعد اسے تسلیم کیا ہے۔

ڈیل (تجارت) کا فن

صدر ٹرمپ وہ سودے پسند نہیں کرتے جو انھوں نے شروع نہ کیے ہوں۔ صدارتی دفتر میں اپنے پہلے ہی دن انھوں نے ’خوفناک‘ کہہ کر صدر اوبامہ کے منظور شدہ 12 ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدہ (جسے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ کہتے ہیں) کو ختم کر دیا۔

انخلا سے زیادہ تر چین کو فائدہ ہوا جس نے اس معاہدے کو ایشیا بحر الکاہل کے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔ لیکن امریکہ میں وہ ناقدین، جو سمجھتے تھے کہ یہ معاہدہ امریکی ملازمتوں کو متاثر کرے گا، خوش تھے۔

ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ نارتھ امریکن فری ٹریڈ معاہدے پر پھر سے بات چیت کی جسے انھوں نے ’شاید اب تک کا بدترین تجارتی سودا‘ قرار دیا۔ اس سے کچھ خاص نہیں بدلا لیکن اس نے گاڑیوں کے پرزوں سے متعلق ملازمین کی فراہمی اور قوانین کو سخت کر دیا۔

صدر کی اصل ضد تھی امریکہ کا باقی دنیا سے تجارتی فائدہ اٹھانا۔ اس کا نتیجہ چین کے ساتھ ایک تلخ تجارتی جنگ بنی جس میں دنیا کی دو بڑی معیشتوں نے ایک دوسرے کے سامان پر سینکڑوں اربوں ڈالر کا ٹیکس عائد کیا۔

یہ امریکی سویا بین کاشتکاروں، ٹیکنالوجی اور کاریں بنانے کی صنعتوں کے لیے سردرد بن گیا۔ چین بھی متاثر ہوا کیونکہ کاروباری اداروں نے اپنی لاگت کو کم کرنے کے لیے ویتنام اور کمبوڈیا جیسے ممالک میں اپنی صنعتی پیداوار کو منتقل کیا۔

سنہ 2019 میں چین کے ساتھ سامان میں امریکی تجارتی خسارہ 2016 سے تھوڑا کم تھا کیوںکہ ٹرمپ کے محصولات سے بچنے کے لیے امریکی کمپنیوں نے کم درآمد کی۔

کورونا وائرس کی وبا کے دوران رجحانات کافی متاثر ہوئے ہیں اور امریکہ اب بھی اپنی برآمدات سے زیادہ سامان درآمد کرتا ہے۔

چین کے ساتھ تنازعات

ٹرمپ کے اس ٹویٹ سے ایک پالیسی واپس لینے کا ایک حیرت انگیز حوالہ ملتا ہے کہ زیر نظر فون کال کا اپنا ویکی پیڈیا پیج ہے۔

2 دسمبر 2016 کو ٹرمپ (جو صدارتی انتخابات جیت گیے تھے لیکن ابھی حلف نہیں لیا تھا) نے تائیوان کے صدر سے براہ راست بات کرنے کا انتہائی غیر معمولی قدم اٹھایا جو کہ 1979 کے رسمی تعلقات منقطع ہونے کے بعد مثالی بات چیت تھی۔

بی بی سی کے اس وقت کے چین کے ایڈیٹر کیری گریسی نے پیش گوئی کی ہے کہ اس اقدام سے بیجنگ میں ’خطرے کی گھنٹی اور غصہ‘ بڑھے گا۔ چین تائیوان کو ایک آزاد ریاست نہیں بلکہ چین کا ایک صوبہ سمجھتا ہے۔

ٹرمپ کی جرات مندانہ کال عظیم جغرافیائی سیاسی حریفوں کے مابین کثیر جہتی مقابلے میں پہلا معاملہ تھا جس کی وجہ سے تعلقات برسوں میں اپنے بد ترین مقام پر ہیں۔

امریکہ نے جنوبی بحیرۂ چین میں چین کے اپنے علاقائی دعوؤں کو غیر قانونی قرار دے کر، اس کے تجارتی سامان پر محصولات میں اضافہ کیا، مقبول ایپ ٹک ٹاک اور وی چیٹ کو ڈاؤن لوڈ کرنے پر پابندی عائد کی اور چینی کمپنی ہواوے کو بلیک لسٹ کر کے چین سے ناراضی مول لی ہے۔

لیکن تناؤ ٹرمپ کے دور میں شروع نہیں ہوا تھا بلکہ کچھ وجوہات چین کے اپنے اقدامات بھی ہیں۔ صدر شی جن پنگ، 2013 سے اقتدار میں ہیں، جنھوں نے ہانگ کانگ میں ایک انتہائی متنازع قومی سلامتی کے قانون کی صدارت کی ہے اور چین کی مسلم اقلیت اویغور کو بڑے پیمانے پر حراستی مراکز میں قید کیا ہے جس کی چین تردید کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کووڈ 19 کو ’چینی وائرس‘ کا نام دے دیا ہے۔ شاید وہ اس سے اپنی جانب سے کورونا سے بچاؤ کے اقدامات میں کوتاہیوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔ لیکن اس سب سے مراد یہ نہیں کہ امریکی قیادت میں تبدیلی سے چین کے ساتھ تعلقات فوری بہتر ہوجائیں گے۔

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے شی جن پنگ کو ایک ’ٹھگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے جسم میں جمہوریت کے لیے کوئی حمایت نہیں۔

ایران کے ساتھ جنگ جیسے حالات

ٹرمپ نے نئے سال کے موقع پر 2019 کو ٹویٹ کیا کہ ’کسی بھی مرکز پر جانی و مالی نقصان کی صورت میں ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ وہ بہت بڑی قیمت ادا کریں گے! یہ انتباہ نہیں، یہ ایک دهمکی ہے۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’نیا سال مبارک ہو!‘

کچھ دن بعد امریکہ نے ایران کے سب سے طاقتور جنرل قاسم سلیمانی اور مشرق وسطیٰ میں اس کی فوجی کارروائیوں کی سربراہی کرنے والے شخص کو قتل کر کے دنیا کو ایک جھٹکا دیا۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں دو امریکی اڈوں پر درجن سے زیادہ بیلسٹک میزائل داغے۔ ایک سو سے زیادہ امریکی فوجی زخمی ہوئے اور تجزیہ کاروں نے سوچا دونوں ملک جنگ کے دہانے پر ہیں۔

کوئی جنگ نہیں ہوئی لیکن بے گناہ شہری پھر بھی مارے گئے۔ ایران کے میزائل حملوں کے چند ہی گھنٹوں بعد اس کی فوج نے غلطی سے یوکرینی مسافر طیارے کو نشانہ بنایا جس میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے۔

یہاں تک بات کیسے پہنچی؟ وجہ تھی عدم اعتماد کے پس منظر میں باہمی غلط فہمیوں کا ایک سلسلہ۔

جب 1979 میں امریکہ کے حمایت یافتہ شاہ کا تخت الٹا گیا تھا اور امریکہ کے سفارتخانے کے اندر 52 امریکیوں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس وقت سے امریکہ اور ایران محاذ آرائی پر ہیں۔ مئی 2018 میں ٹرمپ نے 2015 کے جوہری معاہدے کو ترک کرتے ہوئے تناؤ کو بڑھا دیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت ایران معاشی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر راضی ہو گیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے ایران کے رہنماؤں کو اپنی پسند کے مطابق سودے کے لیے مجبور کرنے کے لیے ملک پر پابندی لگائی جسے وائٹ ہاؤس نے ’اب تک کی سخت ترین پابندی‘ بتایا ہے۔

تہران نے جھکنے سے انکار کر دیا۔ پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی معیشت شدید گراوٹ کا شکار ہو گئی، اور اکتوبر 2019 تک کھانے کی قیمت میں سال بہ سال 61 فیصد اور تمباکو کی قیمت میں 80 فیصد تک کا اضافہ ہوا۔ ایک ماہ کے بعد ایرانیوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔

اگرچہ کورونا وائرس کے بحران سے دونوں ہی متاثر ملکوں نے سیاسی توجہ اپنی طرف کھینچی ہے لیکن ان کے سفارتی راستے بہت کم ہیں اور ان کے پاس تشدد کے راستے پر جانے کی وجوہات بے شمار ہیں۔